احمد آباد6؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ساتویں تنخواہ کمیشن میں ملک میں باقاعدہ ملازمین کی کم از کم تنخواہ بھلے ہی18000کردی گئی ہو لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کے اپنی ہی ریاست گجرات میں کانٹریکٹ کر کام کر رہے ملازمین اس سے کافی کم تنخواہ پر کام کرنے پرمجبورہیں۔این ڈی ٹی وی کے مطابق ان ملازمین کیلئے سرکاری ملازمین کے برابر تنخواہ پانا ابھی تک خواب ہی بناہواہے۔تنخواہ بڑھائے جانے کی اس مانگ کو لے کراحمدآبادکے6000سے زیادہ صفائی ملاز مین گزشتہ ایک ہفتے سے زیادہ وقت سے ہڑتال پرہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں کی درخواست داخل بہت پہلے ہوگئی لیکن حکومت انہیں بالکل توجہ نہیں دے رہی۔کانٹریکٹ سسٹم کی وجہ سے ان کی حالت بری ہے۔طویل جنگ کے بعد حکومت نے انہیں دو سال پہلے ہی سرکاری کانٹریکٹ پر رکھا ہے جو کبھی بھی منسوخ ہوسکتاہے۔یہ لوگ صرف دہاڑی مزدور بن کر رہ گئے ہیں۔انہیں اتوار کو بھی چھٹی نہیں ملتی۔یہی نہیں۔ اگربیمار پڑ گئے تو اس دن کا پیسہ گیا۔نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم بن گئے ہیں لیکن گجرات کے وزیراعلیٰ رہتے انہوں نے جو پالیسیاں بنائیں،ان سے ملازمین خفاہیں۔گیتابین راٹھورنام کی ملازم یہاں تک کہتی ہیں کہ انہیں مشکل سے ہرماہ7000سے8000روپے تک مل پاتاہے۔یہ بھی گزشتہ 15سال سے زیادہ سے کام کرنے کے بعد۔کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں، 3-4ہزار کرایہ دیتے ہیں، بچوں کی پڑھائی کروائیں کہ اپنا پیٹ بھرنے انہیں نہ میڈیکل ملتا ہے نہ اتوار کی چھٹی۔یہی نہیں۔ اگرگھر میں کسی کی موت ہو جائے تو بھی تنخواہ کٹوانے کی نوبت آتی ہے۔